نئی دہلی، 9 دسمبر (آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ تین دن میں پیش کی جائے۔ساتھ ہی کہا کہ گجرات حکومت 11 دسمبر تک راج کوٹ میں لگی آگ کے بارے میں جاری تحقیقات کی رپورٹ پیش کرے۔ گجرات کے راج کوٹ کے کووڈ اسپتال میں آتشزدگی کے نتیجے میں پانچ مریضوں کی موت کے معاملے میں گذشتہ روز سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ہم سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ریاستی حکومت سے یکم دسمبر تک اس معاملے میں رپورٹ پیش کرنے کو کہتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ یہ سنجیدہ معاملہ تھا نہ کہ پہلا واقعہ۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ آپ کے کتنے افسر موجود ہیں جو صورتحال کو دیکھ رہے ہیں۔آپ کے پاس آگ سے حفاظت کا کوئی اقدام نہیں ہے، ریاست درریاست اس طرح کی آگ لگنے کے واقعات ہورہے ہیں اور اسپتالوں میں پیش آرہے ہیں۔ ریاستیں مناسب اقدامات نہیں کررہی ہیں۔سپریم کورٹ میں سالیسٹر جنرل تشار مہتا مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور کہا کہ ریاستوں کی فائر سیفٹی آڈٹ رپورٹ تیار کی جارہی ہے، انہیں چار دسمبر تک رپورٹ پیش کرنا تھا لیکن بہت ساری ریاستوں سے رپورٹیں نہیں آئیں جس کی وجہ سے ہم اسے مجموعی طور پر تیار نہیں کرسکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے اس پر کہا کہ جن ریاستوں کی رپورٹیں آئیں ہیں ان کی رپورٹس پیش کی جائیں اور اس کیلئے ہم آپ کو وقت دیں گے۔ گجرات میں آتشزدگی کے باعث کوووڈ مریض کی موت کے معاملے میں وکیل اپرنا بھٹ ایک متوفی کی اہلیہ کی طرف سے پیش ہوئے۔ جب وہ عدالت میں پیش ہوئی تو عدالت نے کہا کہ ہم نے راج کوٹ کیس ہی نہیں بلکہ تمام کووڈ اسپتالوں میں آتشزدگی کے واقعات کا بھی نوٹس لیا ہے۔
اس کیس کی سماعت کے دوران سالسیٹر جنرل نے بتایا کہ کووڈ اسپتالوں میں آگ لگنے کے واقعے کی تحقیقات کیلئے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے،ہم کچھ چھپا نہیں رہے ہیں۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے سوال کیا کہ کمیٹی نے 3-4 ماہ میں کیا معائنہ کیا۔سالیسیٹر جنرل نے کہا کہ راج کوٹ واقعے کی تحقیقات کے لئے جسٹس بی ایم مہتا کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو حفاظی معاملات کو دیکھ رہی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ ریاستوں کے فائر سیفٹی آڈٹ کا ڈیٹا تین دن میں پیش کیا جائے گا۔ نیز احمد آباد میں آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات بھی راج کوٹ میں لگی آگ کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کو دی جاسکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 3 دسمبر کے حکم کے معاملے میں ہم جمعہ کو سماعت کریں گے۔ 3 دسمبر کو سپریم کورٹ نے کہا کہ کووڈ 19 کی ویکسین آنے تک تمام رہنما اصولوں پر عمل کرنا ضروری ہے، جب تک ویکسین متعارف نہیں کروائی جاتی ہے، ماسک، معاشرتی دوری سمیت دیگر تمام رہنما خطوط پر عمل کرنا ضروری ہے۔